نئی دہلی، 24؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہندوستان کی اسکارپین غوطہ خور جہاز کی تکنیکی اور رڈار سے بچنے کی صلاحیتوں سے منسلک تفصیلی معلومات والے حساس دستاویزات لیک ہو گئے ہیں۔وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اس معاملے میں بحریہ کے چیف سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ان اسکارپین غوطہ خور جہازوں کا ڈیزائن فرانسیسی جہازساز کمپنی ڈی سی این ا یس نے تیار کیا ہے۔آسٹریلیا کے ’دی آسٹریلین‘ اخبار کے مطابق ڈی سی این ا یس کا کل 22400صفحات کا جو ڈاٹا لیک ہوا ہے، اس میں ہندوستان کے 6 نئے غوطہ خورجہازوں کی رڈار سے بچ نکلنے کی خفیہ صلاحیت کی معلومات ہے۔اس میں ان فریکوئنسی کا بھی ذکر ہے، جن پر یہ خفیہ معلومات اکٹھا کرتی ہیں۔اس کے علاوہ ان دستاویزات میں یہ بھی درج ہے کہ یہ غوطہ خور جہاز رفتار کی مختلف سطحوں پر کتنا شور کرتی ہیں اور کس گہرائی تک غوطہ لگا سکتی ہیں اور ان کی رینج اور مضبوطی کتنی ہے۔یہ سبھی حساس اور انتہائی خفیہ معلومات ہیں۔اس میں کہا گیا کہ یہ اعداد و شمار غوطہ خور جہاز کے عملے کو یہ بتاتے ہیں کہ کشتی پر وہ کس مقام پر جا کر دشمن کی نظر سے بچتے ہوئے محفوظ طریقے سے بات کر سکتے ہیں؟ اعداد و شمار مقناطیسی، برقی مقناطیسی اورانفراریڈ ڈاٹا کا بھی خلاصہ کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی یہ غوطہ خور جہاز کے ٹارپیڈو لانچنگ سسٹم اور جنگی نظام کی مخصوص معلومات بھی دیتے ہیں۔اس ڈاٹا میں پیراسکو پ کا استعمال کرنے کے لیے ضروری رفتار اور حالات کی بھی تفصیلات ہے۔اس کے علاوہ غوطہ خور جہاز کے پانی کی سطح پر آنے کے بعد پروپیلر سے ہونے والے شور اور لہروں کی سطح کا ذکر بھی اس میں درج ہے۔اخبار کی طرف سے حاصل کئے گئے اعداد و شمار میں غوطہ خور جہاز کے پانی کے اندر والے ڈی ٹیکر ز کے بارے میں معلومات دینے والے 4457صفحات، پانی کے اوپر لگے ڈی ٹیکرز پر 4209صفحات، ٹارپیڈو داغنے کے طریقہ کار سے وابستہ 493صفحات، غوطہ خور جہاز کے مواصلاتی نظام پر 6841صفحات اور اس کے سمت بتانے والے میکانزم سے متعلق 2138صفحات ہیں۔پاریکر نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایاکہ میں نے بحریہ سربراہ سے کہا ہے کہ وہ پورے معاملے کا مطالعہ کریں اور پتہ لگائیں کہ کیا لیک ہوا ہے؟ اس میں ہمارے بارے میں کیا معلومات ہے اور کتنی معلومات ہے؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ رات تقریبا 12بجے کی بات ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ یہ ہیکنگ ہے، ہم ان سب کا پتہ لگا لیں گے۔وزیر دفاع نے کہا کہ وہ اس لیک کو 100فیصد نہیں مانتے کیوں کہ آخری انضمام کا ایک بڑا حصہ ہندوستان کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے کچھ دنوں میں تصویر صاف ہو جائے گی۔بحریہ نے ایک بیان میں کہاکہ اسکارپین غوطہ خورجہازو ں سے منسلک دستاویزات کے مشتبہ لیک کی معلومات غیر ملکی میڈیا ہاؤس کی طرف سے دی گئی ہے۔